’جنرل باجوہ نے خلیجی ممالک کو واضح ترین الفاظ میں بتادیا ہے کہ اب پاکستان ان کیلئے۔۔۔‘ عرب اخبار نے بڑا دعویٰ کردیا، پاکستانی آرمی چیف کا دبنگ فیصلہ سب کو بتادیا

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) جب یہ خبر سامنے آئی کہ سعودی عرب کی قیادت میں قائم ہونے والے عسکری اتحاد کی سربراہی جنرل راحیل شریف سنبھالیں گے تو پاکستان میں ایک پرجوش بحث کا آغاز ہو گیا۔ عام تاثر یہی تھا کہ بظاہر ایران مخالف اتحاد کی سربراہی پاکستانی کے سابق آرمی چیف کے پاس ہونے کا مطلب یہی لیا جائے گا کہ پاکستان سعودی کٹھ پتلی ہے۔ مڈل ایسٹ آئی میں شائع ہونے والے خصوصی مضمون میں معروف تجزیہ کار کمال عالم لکھتے ہیں کہ پاکستان کے بارے میں یہ تاثر ہمیشہ سے رہا ہے لیکن اس بار جب یہ بحث ہو رہی تھی تو دریں اثناءپاکستان کے نئے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ دفاعی سفارتکاری کیلئے خلیج فارس کے دوروں میں مصروف تھے۔ سابقہ عسکری سربراہان کے برعکس جنرل قمر جاوید باجوہ نے خلیج تعاون کونسل اور ایران کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں توازن لانے کی سعی کی ہے، اور خلیجی ممالک کو بتایا ہے کہ پاکستان کرائے کی بندوق نہیں ہے۔
کمال عالم مزید لکھتے ہیں کہ سعودی عرب کی طرف داری نے پاکستان کے عراق، مصر، الجیریا اور دیگر عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کو نقصان پہنچایا ہے۔ سعودی عرب اور ایران کی جانب سے پاکستان کے مذہبی رہنماﺅں کی حمایت نے فرقہ وارانہ مسائل کو ہوا دی ہے۔ اب جنرل قمر جاوید باجوہ کے دورمیں ایک نئی کاوش کا آغاز ہوا ہے جس کے تحت خلیجی ممالک کو بتایا گیا ہے کہ پاکستان کرائے کی بندوق کی بجائے استحکام پیدا کرنے والی قوت ہوگا۔

نومبر 2016ءمیں کمان سنبھالنے کے بعد جنرل باجوہ کے پہلے تین غیر ملکی دورے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کے تھے ، جس کے بعد اب وہ تہران جائیں گے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران پاکستان کے تعلقات نہ صرف خلیجی ممالک کے ساتھ مشکلات کا شکار ہوئے ہیں بلکہ ایران کے ساتھ بھی مسائل بڑھے ہیں۔ اپنے پہلے چھ ماہ کے دوران جنرل باجوہ نے اس صورتحال کو ٹھیک کرنا اپنی ترجیح رکھی ہے ۔ قطر سعودی عرب تنازعے میں بھی انہوں نے کسی کی طرف داری نہیں کی۔ انہوں نے نہ صرف قطر کو تسلی دی ہے بلکہ سعودی عرب کو بھی بتایا ہے کہ وہ تنازعے کے حل کیلئے معاونت کریں گے۔
جنرل باجوہ پہلے عسکری سربراہ ہیں جنہوں نے کھل کر ایران کو یہ بات پہنچائی ہے کہ پاکستان استحکام کا سبب بننے والی وقت بنے گا۔ یمن کی جنگ کے آغاز سے کچھ خلیجی ممالک کے پاکستان کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہیں، خصوصاً متحدہ عرب امارات اور کویت نے پاکستان کے ساتھ اظہار ناراضی کیا کیونکہ یہ اس تنازعے میں شریک نہیں ہوا۔ سعودی عرب کا ردعمل قدرے خاموشی پر مبنی تھا کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ پاکستان اس کے بنیادی ترین محافظوں میں سے ایک ہے اور اس کے دفاعی ڈاکٹرائن کا بنیادی ستون ہے۔ مارچ کے مہینے میں سعودی سپیشل فورسز نے پہلی بار اسلام آباد میں کسی غیرخلیجی ملک کی فوجی پریڈ میں حصہ لیا۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ سعودی عرب پاکستانی ساختہ JF-17 جنگی طیارے خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
قطر کے دورہ کے موقع پر جنرل باجوہ نے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات کے نئے دور کی بات کی اور قطریوں نے بھی اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ پاکستان 2022ءکے ورلڈ کپ کی سکیورٹی کا حصہ ہوسکتا ہے۔ جنرل باجوہ نے اسلام آباد میں ایرانی سفیر کے ساتھ ملاقات میں انہیں یقین دہانی کروائی کہ دونوں ممالک کے تعلقات سٹریٹجک نقطہ نظر سے انتہائی اہم ہیں اور سعودی عسکری اتحاد میں پاکستان کی شمولیت کے بارے میں بھی ایرانی خدشات کو دور کیا۔ پاکستان کے ممتاز ترین عسکری ادرے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں دورے پر آئے ایرانی فوجی وفد کے ساتھ ایران کا قومی دن منایا گیا۔
پاکستان ایک عرصے سے عرب افواج کو تربیت و میٹیریل سپورٹ بغیر کسی سفارتی مفاد کے فراہم کرتا رہا ہے۔ جنرل باجوہ نے پہلی بار اس تعلق میں سٹریٹجی اور استحکام کے نظریات متعارف کروائے ہیں اور دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی جنگ کے تجربات بھی شیئر کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے خلیجی ممالک پر واضح کردیا ہے کہ پاکستان ان کی جنگ نہیں لڑے گا بلکہ ایران کے ساتھ ان کے مشکل تعلق کے معاملات میں معاونت کرے گا۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ جنرل باجوہ نے مشرق وسطیٰ میں پاکستان کے کردار کے بارے میں ایرانی خدشات کو دور کیا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور متعدد تنازعات کے دوران پاکستان غیر جانبدار ہے اور جنرل قمر باجوہ کی سربراہی میں پاک فوج قطر، ترکی اور ایران کے ساتھ ایک متوازن تعلق قائم کررہی ہے۔ شاید سب سے بڑی تبدیلی یہ ہے، جیسا کہ قطر سعودی تنازعے میں، کہ پاکستان بند آنکھوں کے ساتھ سعودی عرب کی تقلید نہیں کر رہا۔