بٹ کوائن جیسی جادوئی چھڑی آپ کے ہاتھ میں آ جائے تو آپ کیا کریں گے؟

آج کل ہر طرف ڈیجیٹل اور ورچوئل کرنسی بِٹ کوائن کا شور ہے۔ میں جس چھوٹے بڑے سے ملتا ہوں اُس نے کم از کم اِس کا ذکر ضرور سنا ہوتا ہے۔
بہت سے لوگ ایسے بھی ملتے ہیں جو چاہتے ہیں کہ کسی طرح میں اُن کی بِٹ کوائن خریدنے میں مدد کردوں کیونکہ اِس کی خرید و فروخت بھی کسی سائنس سے کم نہیں۔
ایسا نہیں کہ آپ اپنے بینک جائیں کچھ نوٹ کیشیئر کو تھمائیں اور بِٹ کوائن لے کر گھر آ جائیں۔ اِس میں اتنی زیادہ دلچسپی اس لیے ہے کیونکہ اکثر لوگوں نے بِٹ کوائن سے امیر ہونے والوں کی بہت سی کہانیاں سنی ہوتی ہیں جن میں انھیں خریدنے والوں نے چند کوڑیوں کے بِٹ کوائن خریدے اور آج مالا مال ہیں۔ پھر کس کا دل نہیں چاہتا کہ وہ بھی امیر سے امیر تر ہو جائے۔
بِٹ کوائن کو ایک جادوئی چھڑی جیسی شہرت مل گئی ہے جو کھوٹے سکے کو سونا بنا دیتی ہے۔ اگر آپ کے ہاتھ میں ایسی طلسماتی چھڑی آ جائے جو ہر کھوٹے سکے کو سونا بنا دے تو آپ کیا کریں گے؟

یقیناً آپ اس چھڑی سے اخروٹ تو نہیں توڑیں گے۔ سونے کا ڈھیر لگا دیں گے لیکن آگر آپ لوگوں کو بتائیں کہ آپ کے پاس ایسی جادوئی چھڑی ہے تو شاید لوگ آپ کو دیوانہ سمجھیں۔ آج کل بِٹ کوائن کی دنیا جو ایک کرپٹو کرنسی ہے اس میں بظاہر کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے۔سٹاک مارکیٹ کلاک کے مطابق لندن سٹاک ایکسچینج جو حصص مارکیٹ کا ایک اہم بازار سمجھا جاتا ہے اس میں تین اعشاریہ نو کھرب ڈالر کا سرمایہ لگا ہوا ہے۔
کوائن مارکیٹ کیپ کے مطابق کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں اس وقت 750 ارب ڈالر کا سرمایہ لگ چکا ہے اور بہت تیزی سے ایک کھرب تک پہنچ رہا ہے۔ اس بات سے اندازہ ہوتا ہے کہ کرپٹو کرنسی کو سرمایہ کار اب اہمیت دے رہے ہیں۔
جن لوگوں نے شروع میں اپنے کھوٹے سکوں سے بڑی تعداد میں بِٹ کوائن خریدے آج اُس کی مالیت آسمان سے باتیں کر رہی ہے اور اُن لوگوں کے سامنے سونے کے ڈھیر لگے ہیں۔ بہت سوں نے بِٹ کوائن خریدنے والوں کو دیوانہ کہا لیکن آج آہیں بھر رہیں ہیں کہ کاش کچھ دیوانگی ہم بھی دکھا دیتے۔
جہاں بہت سوں کے لیے بِٹ کوائن اب بہت مہنگا ہو چکا ہے وہاں اور بہت سی نئی کرپٹو کرنسیاں سامنے آئی ہیں۔ ان میں سب سے قابل ذکر رپل اور ایتھیریم ہیں۔

جنوری2017 میں ایک رپل کی قیمت 0.006$ تھی۔ اس کی قیمت میں 62400% اضافہ ہوا ہے اور اس وقت اس کی قیمت 3.75 ڈالر ہو چکی ہے اور یہ سرمائے کے حساب سے دوسرے نمبر پر ہے۔
میں جب اس میں اضافہ کی تناسب کا حساب کر رہا تھا تو خود بھی جواب دیکھ کر حیران رہ گیا۔ بظاہر یہ کوئی طلسماتی چھڑی سے کم نہیں۔
ایک طرف رپل شروع کرنے والے ادارے نے کرنسی کا اجرا کیا ہے تو دوسری جانب وہ دنیا بھر میں پیسوں کی ٹرانزیکشنز کا نیا تیز رفتار نظام بھی متعارف کروانے کی کوشش میں ہیں۔ رپل کے مطابق یہ نیا نظام بینکوں میں استعمال ہونے والے موجودہ سسٹم سے کہیں زیادہ تیز رفتار ہو گا۔